Ishq aur taqaza e ishq


                                                                                                                                                    
                                                                                                  
نحمد ہ و نصلی علا رسو له الکریم      
عشق اور تقا ضہ عشق                                                                                                              
کہتے ہیں قیس (مجنوں ) کو اس کے والد منا کر بیت اللہ لے گۓ تا کہ وہ لیلیٰ کے عشق سے تائب ہو جاۓ  اور الله تعالیٰ سے رجوع کر لے . وہ بیت اللہ حاضر ہوا اور غلاف کعبہ پکڑ کر اسنے یہ  د عا مانگی الہی  سب گناہوں سے میں توبہ کرتا ہوں مگر لیلیٰ کا عشق میرے دل سے کم نہ کرنا . قیس کی ان مجنوانہ حرکتوں  کی وجہہ سے اس کا نام مجنوں پڑ گیا.  ھیر رانجھ ، سسسی پننوں، شیریں فرہاد اور  رومیو جولیٹ یہ سارے قصّے عشق مجازی کے ہیں مگر ان عشق و محبّت کے قصّوں  میں یہ بات مشترک ہے کہ محبوب کی خاطر رسم و رواج ، مال و متاع رشتے ناطوں حتیٰ کہ جان کی بھی بازی لگائی گئی. 
    
  میرے آپکے  پیارے نبی حضرت محمّد صل الله علیہ وسلّم  کی مشهور حدیث  کا مفہوم ہے کہ تم اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ میں   تمہارے نزدیک تمہارے ماں باپ آل اولاد ، مال و متاع  اور دنیا کی سب چیزوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں . 
عاشقان رسول صل الله علیہ وسلّم  یعنی صحابہ کرام رضی الله تعالیٰ عنھم اجمعین کی زندگی تو آپ صل الله علیہ وسلّم  کہ ساتھ ایسے   ہی قلبی تعلق و عقیدت کی مثال ہے .  آقا مدنی  صل الله علیہ کے  اشارہ پر جان کی بازی لگانا ان کہ یہاں عام تھا حضرت حصین بن وحوح  رضی اللہ تعالیٰ عنھ فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ بن عازب  رضی اللہ تعالیٰ عنھ جب محبوب یزداں صل الله علیہ وسلّم  سے ملنے کے لئے تشریف  لاۓ تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنھ حضور صل الله علیہ وسلّم سے چمٹنے لگے اور آپ صل الله علیہ  وسلّم کے پاؤں مبارک کا بوسہ دینے لگے  اور  فرمایا یا رسول الله  صل الله علیہ  وسلّم مجھے آپ جو حکم دیں گے  میں وہ پورا کرونگا حضور پاک  صل الله علیہ وسلّم  بھی ایک چھوٹے لڑکے کی اتنی محبّت دیکھ کر حیران ہو رہہے تھے پھر آپ   صل الله علیہ وسلّم نے آزمائش کے لئے  فرمایا اپنے والد کو قتل کر دو  وہ جلدی سے چل پڑے آپ صل الله علیہ وسلّم نے انکو بلوایا اور فرمایا کہ مجھے رشتے  توڑنے کہ لئے نہیں بھیجا گیا ہے . حضرت ابن عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنھ فرماتے  ہیں کہ ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنھ  نبی اکرم صل الله علیہ وسلّم  کی خدمت میں حاضر ہوے اورفرمایا  یا رسول الله  صل الله علیہ وسلّم مجھے آپ سے اس قدر محبّت ہے کہ کبھی کبھی میں گھر میں ہوتا ہوں اور آپ صل الله علیہ وسلّم کا خیال
 آجاتا ہے تو بیچین ہو جاتا ہوں حتیٰ کے آپ کو آ کر دیکھ نہ لوں  - آج مجھے خیال آیا کہ آپ  صل الله علیہ وسلّم  تو جنّت کے اونچے درجات میں چلے جائیں گے اور ہم لوگ نچلے درجات میں وہاں ہم آپ صل الله علیہ وسلّم کی زیارت کس طرح کریں گے آپ صل الله علیہ وسلّم  اس پر خاموش رہے اتنے میں جبرئیل علیہ سلام قرآن  مجید کی آیت لے کر تشریف لاۓ
 ترجمہ آیت " اور جو شخص الله اور رسول صل الله علیہ  وسلّم  کا کہنا مان  لے گا  توایسےاشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہونگے جن پر الله تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیا علیھم اسّلام صدیقین  اورشہداء اور صلحا " (سورت النسا ٦٩)
 اس آیت میںایک طرف تو  محبّت کرنے والوں کو اصول بتایا گیا ہے کہ اگر محبّت  کرتے ہو تو اطاعت کرو اوردوسری طرف اطاعت کرنے والوں کوجنّت میں معیت کی  خوشخبری بھی سنائی گئی ہے.
اماں عائشہ مطہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول مقبول صل اللّه تعالیٰ علیھ وسلّم ایک مرتبہ جمعے  کے خطبے کے لئے تشریف لے کر آے آپ صل اللّه تعالیٰ علیھ وسلّم نے فرمایا بیٹھ جاؤ عبدللہ  ابن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنھ مسجد سے باہرقبیلہ  بنو غنم کےمحلے  میں تھے آپ صل اللّه تعالیٰ علیھ وسلّم  کی آواز آپ کو آئ  آپ  وہیں پر بیٹھ گۓ.
               
                  "نقش قدم نبی کے ہیں جنّت کے راستے 
                    الله سے ملاتے ہیں سنّت کے راستے "  
ایک اور آیت کا ترجمہ
  "آپ فرما دیجیے کہ اگر تم الله تعالیٰ سے محبّت رکھتے ہو تو تم لوگ میرا اتتباع کرو الله تعالیٰ  تم سے محبّت کرنے لگیں گے اور تمھارے گناہوں کو معاف کر دیں گے اور الله معاف کرنے والا مہربان ہے ". (ال عمران ٣٣ )
 اس آیت شریفہ میں اگلا اصول بیان کیا گیا ہے کہ الله تعالیٰ اپنی محبّت انکو عطا کرتا ہے جو اس کے محبوب کی اتتباع کرتے ہیںاور ان کے گناہوں کی معافی کی نوید سنائی گئی اس سند کے ساتھ کے الله تعالیٰ  معاف کرنے والا ہے. 
حضرت عثمان غنی  رضی اللہ تعالیٰ عنھ صلح حدیبیہ میں مسلمانوں کی طرف سے مکّہ والوں سے ملنے تشریف لے گۓ تو وہاں مکّہ والوں نے ان کو ستانہ شروع   کیا آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنھ کے چچا زاد  بھائی ابان بن سید بن عاص نے آپ کو پناہ دی اپنی سواری پر بٹھایا جب اسکی نگاہ آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنھ کی لنگی پر پڑی تو اسنے دیکھا کہ لنگی آدھی پنڈلی تک باندھی ہوئی  ہے  اس پر اسنے کہا کہ یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے عرب  کے عام رواج کی طرح ٹخنوں سے نیچے تک کیوں  نہیں باندھی ہوئی. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنھ نے فرمایا میرے محبوب صل اللّه تعالیٰ علیھ وسلّم یہیں تک باندھتے ہیں.
حذیفہ بن یمان  رضی اللہ تعالیٰ عنھ جب اپنے ساتھیوں کے ساتھ رستم فارس سے سفارتی مذاکرات کے دوران رستم  کے شاہی دسترخوان پر کھانا کھا رہے تھے تو ان کے ہاتھ سے نوالہ چھوٹ کر گر گیا آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنھ اس نوالہ کو اٹھانےلگے تو کسی نے منع کیا اس پر آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنھ نے فرمایا کہ میں ان احمقوں کی وجہہ سے اپنے محبوب صل اللّه تعالیٰ علیھ وسلّم کی سنّت چھوڑ دوں.
عشق  کا ایک تقاضا یہ ہے  کہ عاشق معشوق کی تعریف  میں  رطب للسان رہتا ہے . نبی پاک  صل اللّه تعالیٰ علیھ وسلّم پر درود و سلام پڑھنا آپ کی شان میں نعت و قصیدہ پڑھنا.
 صحابہ کرام رضی الله عنھم میں سے ٢٤ صحابہ نے اشعار کہے ہیں .
خود ام المومنین حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  نے دو اشعار کہے ہیں ترجمہ اشعار 
" ایک میرا سورج ہے اور ایک آسمان کا سورج میرا سورج آسمان والے سے بہتر ہے کیوں کہ میرے سورج کے لئے یہ چاند  سورج پیدا کیۓ گۓ  ہیں. 
 آسمان کا سورج دن میں طلوع   ہوتا ہے اور میرا سورج رات میں."
 نبی کریم صل اللّه تعالیٰ علیھ وسلّم کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ صل اللّه تعالیٰ علیھ وسلّم 
عشاء کی نماز کے بعد مسکراتے ہوے گھر میں داخل ہوتے تھے.   
 
ایک اور اصول محبّت یہ ہے کہ  محبّت کرنے والے جن سے محبّت کرتے ہیں انکی ناراضگی سے خائف رہتےہیں . 
 
حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنھ نے ایک مرتبہ اپنے آپ کو گھر میںبند کر لیا اور خوب رونے لگے حضور اکرم صل اللّه تعالیٰ علیھ وسلّم  کو اسکی  خبر کی  گئی تو آپ صل اللّه تعالیٰ علیھ وسلّم نے ایک آدمی بھیج کر وجہہ معلوم کی تو انہوں نے یہ بتایا  کہ  جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے 
ترجمہ "اے ایمان  والوں تم اپنی آواز پیغمبر صل اللّه تعالیٰ علیھ وسلّم   کی آواز سے بلند مت کرو اور ان سے ایسے کھل کر نہ بولا کرو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے کھل کر بولا کرتے ہو کہیں تمہارے اعمال برباد نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو "  (سورت الحجرات)
 
 حضرت ثابت  رضی اللہ تعالیٰ عنھ نے فرمایا کہ میری آواز بہت  اونچی ہے میں اس وجھہ سے ڈر رہا ہوں کہ کہیں الله تعالیٰ مجھ سے ناراض نہ ہوجائیں. حضور انور صل اللّه تعالیٰ علیھ وسلّم نے فرمایا تمہاری زندگی قابل  تعریف ہے اور آپ کو  شہادت کا مرتبہ ملے گا اور الله تعالیٰ آپ کو جنّت میں داخل فرمائیں گے. 
اس واقعہ سے ہمیں یہ بات معلوم  ہوئی کہ محببان  رسول صل الله علیہ وسلّم  یعنی صحابہ کرام رضی الله تعالیٰ عنھم اجمعین الله تعالیٰ اور رسول اللہ صل الله علیہ وسلّم  کی ناراضگی سے کس قدر خائف رہتے تھے . 
ایک اور تقاضہ عشق و محبّت یہ ہے کہ سنّت کے خلاف کسی چیز کو ہوتا دیکھ کرغصّے کا آ جانا یا کم از کم دل کا تلملا جانا.  حضرت  عبدل رحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنھ  نے
 آپ صل اللّه تعالیٰ علیھ وسلّم سے اپنے بدن میں جوں کے پڑ جانے کی شکایت کر کہ ریشم کا کپڑا پہننے کی اجازت چاہی نبی کریم  صل اللّه تعالیٰ علیھ وسلّم نے اجازت مرحمت فرما دی. حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنھ   کے زمانہ خلافت میں ایک مرتبہ آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنھ اپنے صاحبزا دے  ابو سلمہ کو  ریشم کا کرتا پہنا کر حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنھ کی خدمت میں تشریف لاۓ  آپ نے اس کرتے کو گلے سے پکڑ کر پہاڑ دیا. عبدل رحمٰن   رضی اللہ تعالیٰ عنھ  نے فرمایا مجھے نبی پاک  صل اللّه تعالیٰ علیھ وسلّم 
نے اجازت دی تھی  امیر المومنین نے فرمایا وہ اجازت آپ کو جوں کی وجہہ سے دی گئی تھی اور آپ کے علاوہ کسی اور کے لئے نہیں تھی.
سطور بالا میں نبی برحق صل اللّه تعالیٰ علیھ وسلّم کے سچے اور مخلص عاشقوں کے  کچھ  واقعات  رقم کیۓ گۓ ہیں  تا کہ اس بات کا ادراک ہو سکے کہ الله پاک اور ان کے حبیب صل اللّه تعالیٰ علیھ وسلّم سے عشق و محبّت کی حقیقت اور اس کے تقاضے کیا ہیں .
 
اب  سوچنے کی بات یہ ہے کہ آج ہم عشق و محبّت کے دعوے تو خوب کر رہے ہیں مگرکیا ہمیں بھی الله تعالیٰ اور اس کے حبیب صل اللّه تعالیٰ علیھ  وسلّم سے سکچی محبّت ہے کیا  ہم بھی  الله اور رسول اللہ  صل اللّه تعالیٰ علیھ  وسلّم  کے ایک اشارے پر جان کی بازی لگانے کے لئے  تیار ہو جاتے ہیں کیا  ہماری زندگی بھی سنّتوں سے آراستہ ہے کیا ہمیں بھی خلاف سنّت عمل دیکھ کر غصّہ آجاتا ہے . مگر اس بات کو انتہائی ٹھنڈے دل سے سوچنا ہوگا اپنی ذات کا محاسبہ کرنا پڑے گا. اگر اس محاسبے کے بعد یہ بات محسوس ہو کہ الحمد للّه میری زندگی میں یہ باتیں پائی جاتی  ہیں تو پھر اس پر الله تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور  اگر نہیں ہیں تو پھر آئیےمیں اور آپ  اس بات کی نیت کریں کہ آج سے یہ باتیں اپنی زندگی میں لانے کی کوشش کریں گے.
          

Comments

Popular posts from this blog

How Lenovo Legion 5 Gaming Laptop works-Lenovo Legion 5 Gaming Laptop kese kam krta hy