حیا
حیا
اسلامی تعلیمات میں شرم و حیا کی کیا حیثیت ہے اسکا پتہ اس روایت سے چلتا ہے فرماتے ہیں ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں اول کلمہ شہادت کی گواہی دینا ہے آخری راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا ہے. اور حیا ایمان کا خاص شعبہ ہے. خود حضور پاک صل الله علیھ وسلّم اور صحابہ کرام رضی الله تعالیٰ عنھم کی زندگی شرم و حیا کا بہترین نمونہ تھی.
حضرت ابو سید رضی الله تعالیٰ عنھ فرماتے ہیں کے رسول اللہ صل الله علیھ وسلّم کنواری لڑکیوں سے زیادہ شرم و حیا والے تھے.
اماں عائشہ رضی الله تعالیٰ عنھا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ آپ صل الله علیھ وسلّم لیٹے ہو ے تھے کے حضرت ابوبکر رضی الله تعالیٰ عنھ تشریف لاے آپ صل الله علیھ وسلّم لیٹے رہےپھر سیید نا عمر رضی الله تعالیٰ عنھ تشریف لا ے آپ صل الله علیھ وسلّم لیٹے رہے اور بات فرماتے رہے پھر حضرت عثمان بن عفان رضی الله تعالیٰ عنھ تشریف لاے تو آپ صل الله علیھ وسلّم اٹھ کر بیٹھ گۓ. فرماتی ہیں ان کے جانے کے بعد میں نے آپ صل الله علیھ و سلّم سے دریافت فرمایا تو آپ صل الله علیھ وسلّم نے فرمایا کہ عثمان کی طبیعت میں حیا زیادہ ہے اگر میں اٹھ کر نہ بٹھتا تو عثمان سر جھکا کے بیٹھے رہتے مجھ سے کوئی بات نہیں کر سکتے .
اشج بن عبد قیس رضی الله تعالیٰ عنھ فرماتے ہیں کے رسول اللہ صل الله علیھ وسلّم نے مجھ سے فرمایا کے آپ میں دو خصلتیں ایسی ہیں جوالله تعالیٰ کو پسند ہیں ١ ) بردباری ٢) حیا میں نے دریافت فرمایا یہ خصلتیں مجھ میں اب پیدا ہوئیں ہیں یا پہلے سے تھیں آپ صل الله علیھ وسلّم نے فرمایا پہلے سے تھیں.میں نے کہا تمام تعریفیں الله تعالیٰ کےلئے ہیں جس نے مجھے ان خصلتوں کے ساتھ پیدا کیا.
صرف یہی نہیں بلکہ اسلام اس بات کی بھرپور ترغیب د یتا ہے کہ مسلمان شرم و حیا والی زندگی گزاریں . مومن مردوں اور عورتوں کو نگاہیں پست رکھنے کا حکم دیا گیا ہے. "آپ مومن مردوں سے کہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچے رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اسی طرح مومن عورتوں سے بھی کہ دیں کہ وہ بھی اپنی نگاہوں کو نیچے رکھیں اور شرم گاہوں کی حفاظت کریں، "سوره مومن ٣٠، ٣١ قیامت کے ہولناک وحشت اثر دن میں جن سات قسم کےخوش بخت لوگوں کو رب تعالیٰ کے عرش عظیم کا سایہ نصیب ہوگا ایک ان میں سے وہ جوان جس کو کوئی حسب نسب والی عورت اپنی طرف متوجہ کرے اور وہ کہ دے کے مجھے الله تعالیٰ سے ڈر لگتا ہے.
جس کسی کی کسی نا محرم پر نا دانستہ نگاہ پڑ گئی اور اس نے نظرجھکا لی الله تعالیٰ اسکو ایمان کی حلاوت نصیب فرماتے ہیں. دنیا میں حیا دار پاکدامن اور عفیف رہنےوالی عورتوں کو کل جنّت میں ٥٠٠ سال پہلے داخل ہونے کی حوروں کی سردار ہونے کی خوش خبری دی گئی. حوریں ان کے سنگھار پر معمور کی جائیں گی..
چوں کہ فی زمانہ بے شرمی اور بے حیائی کا یہ مرض ایک وبائ صورت اختیار کر گیا ہے اس لئے یہاں پر کچھ وعیدیں بھی رقم کر تا چلوں کہ مرض اگر بڑھ جاۓ تو کڑوی گولیاں بھی کھلانی پڑتی ہیں اورکہیں کہیں نشتر بھی چلانا پڑتا ہے. ایک جگہ یوں آتا ہے اگر تو حیا دار نہیں تو پھر جو چاہے کر. ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ الله تعالیٰ کی لعنت بے پردہ اور بن سنور کر نکلنے والیوں پر اور انکا نظارہ کرنے والوں پر. غرض یہ کہ بے شرمی زنا کی سیڑھی ہے اور زنا جہنم میں لے جانی والی ہے.
اس مصبت سے بچنے اور اس ابتلا سے کس طرح نکلا جاۓ اس پر انشااللہ آیندہ کچھ لکھ سکوں گا . آخر میں الله تعالیٰ سے التجا ہے کہ وہ محض اپنےفضل سے امّت کو اس گناہ سےبچنے کی اور اس میں مبتلا لوگوں کو توبہ کی توفیق عطا فرماۓ آمین
آمین۔ بہت اچھے موضوع پر لکھا آپنے بھیا۔ اللہ آپکو جزائے خیر دے
ReplyDeleteلیکن ایک افسوس کی بات کہ آجکل کے لوگ اس طرح کی نفع بخش اور مزہبی تحاریر کو زیادہ نہیں پڑھتے اور اگر ایک آدمی کسی بلاگ پر کوئی مزہبی تحریر پڑھ لے تو دوبارہ ایسے بلاگ پر کم ہی تشریف آوری ہوتی ہے۔ مجھے خود اس بات کا سخت افسوس ہے اور سمجھ نہیں آتی کہ اس صورت میں کیا کیا جائے۔
ReplyDeleteجزاک الله ہم تو داعی ہیں ہمارا کام فقط کوشش کرنا ہے . آپکی طرف سے ای میل کا منتظر رھوں گا.
ReplyDelete